بدھ 28 اکتوبر 2026 - 13:50
عصرِ حاضر میں علما و مبلغین جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے جہادِ تبیین کی ذمہ داری ادا کریں: حجت‌الاسلام سید آصف رضوی

حوزہ/ قم المقدسہ میں مجتمع امام خمینیؒ کے سالنِ قدس میں منعقدہ ایک علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی عالمِ دین حجت‌الاسلام سید آصف رضوی نے تبلیغِ دین، جہادِ تبیین اور جدید ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ علما و مبلغین کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر مستند معلومات اور مدلل گفتگو کے ذریعے معاشرے کی فکری رہنمائی کرنی چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم-ایران/ قم المقدسہ میں واقع مجتمع امام خمینیؒ، سالنِ قدس میں منعقدہ ایک علمی و فکری جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستانی عالمِ دین حجت‌الاسلام سید آصف رضوی، بین الاقوامی امور کے تجزیہ نگار اور ٹیلی ویژن ڈیبیٹر نے علما و مبلغین کے فرائض، عصرِ حاضر میں تبلیغِ دین کی اہمیت، معاشرتی ضروریات سے ہم آہنگ ہونے اور جدید ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ علما و مبلغین کی ذمہ داری محض دینی معلومات کی ترسیل تک محدود نہیں، بلکہ صحیح دینی تعلیمات کو دیانت داری، بصیرت اور حکمت کے ساتھ معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچانا بھی ان کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ عالمِ دین درحقیقت خدا کی جانب سے عطا کردہ دینی پیغام اور معاشرے کے درمیان ایک اہم واسطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس طرح ایک پیاسا پانی کا محتاج ہوتا ہے، اسی طرح معاشرے کے بہت سے افراد صحیح دینی رہنمائی، فکری وضاحت اور روحانی تشنگی کی تسکین کے طلب گار ہوتے ہیں۔ ایسے میں علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ دین کی حقیقی تعلیمات کو امانت داری کے ساتھ عوام تک پہنچائیں اور دینی پیغام کو اس انداز میں پیش کریں کہ وہ لوگوں کی فکری و عملی زندگی میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکے۔

میدانِ عمل میں علما کی موجودگی ناگزیر

حجت‌الاسلام سید آصف رضوی نے اس بات پر زور دیا کہ عالم اور مبلغ کا منصب صرف درس گاہ، منبر یا علمی محفل تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے معاشرے کے عملی میدان میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب معاشرے کو دینی رہنمائی کی ضرورت ہو، جب عوام کسی فکری الجھن یا شبہے سے دوچار ہوں، اور جب صحیح معلومات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت بن جائے، تو عالمِ دین کو بروقت میدان میں موجود ہونا چاہیے۔

ان کے مطابق تبلیغِ دین کا تقاضا ہے کہ علما حالات سے باخبر رہیں، عوام کے سوالات کو سمجھیں اور ہر موقع پر اپنی علمی و اخلاقی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اگر کسی اہم موقع پر اہلِ علم کی آواز موجود نہ ہو تو ممکن ہے کہ فکری خلا پیدا ہو جائے، جسے غیر مستند معلومات یا غلط فہمیاں پُر کر دیں۔ اس لیے بروقت حاضری، حالات شناسی اور ذمہ دارانہ اظہار کو تبلیغی فرائض کا اہم حصہ قرار دیا جانا چاہیے۔

زبان شناسی، حالات شناسی اور جدید ذرائع ابلاغ

خطاب کے ایک اہم حصے میں انہوں نے عصرِ حاضر کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں عالم و مبلغ کے لیے زبان شناسی، حالات شناسی اور ذرائع ابلاغ سے واقفیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ صرف علم کا حامل ہونا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے علم کو مخاطب کی زبان، فہم اور ذہنی سطح کے مطابق پیش کرنے کا سلیقہ رکھتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں ابلاغ کے ذرائع تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات کی ترسیل کو آسان اور وسیع بنا دیا ہے، لیکن ان کے غیر ذمہ دارانہ استعمال سے غلط فہمیاں، بے بنیاد دعوے اور گمراہ کن بیانیے بھی پھیل سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں علما و مبلغین کو چاہیے کہ وہ ان ذرائع کو محض نظر انداز کرنے کے بجائے مثبت، تعمیری اور دانش مندانہ انداز میں استعمال کریں۔

انہوں نے اس امر پر بھی توجہ دلائی کہ وقت ایک قیمتی سرمایہ ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ کو غیر ضروری مصروفیات میں صرف کرنے کے بجائے علمی آگہی، دینی تعلیمات کی ترویج، شبہات کے ازالے اور معاشرے کی فکری تربیت کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ ان کے بقول، اگر مخالف یا غیر ذمہ دارانہ بیانیے ابلاغی ذرائع کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہوں تو اہلِ علم کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھی انہی ذرائع سے مستند معلومات، مدلل گفتگو اور حکیمانہ انداز میں اپنا پیغام لوگوں تک پہنچائیں۔

جہادِ تبیین؛ حقائق کی وضاحت اور فکری رہنمائی

حجت‌الاسلام سید آصف رضوی نے اپنے خطاب میں رہبرِ شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی جانب سے پیش کردہ تصورِ ’’جہادِ تبیین‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جہادِ تبیین کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ حقائق کو واضح کیا جائے، غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے، واقعات اور حالات کی درست تفہیم پیش کی جائے اور معاشرے کو فکری و ابلاغی ابہام سے نکالنے کی سنجیدہ کوشش کی جائے۔

ان کے مطابق موجودہ دور میں اطلاعات کی کثرت کے باوجود درست اور مستند معلومات تک رسائی ایک اہم چیلنج ہے۔ ایسے ماحول میں عالم و مبلغ کو چاہیے کہ وہ کسی خبر یا واقعے پر گفتگو کرتے وقت تحقیق، دیانت اور علمی احتیاط کو مقدم رکھے۔ جذباتی ردِعمل، غیر مصدقہ اطلاعات اور محض دعووں کی تکرار کے بجائے حقائق کی بنیاد پر گفتگو کرنا ہی مؤثر تبلیغ اور ذمہ دارانہ تبیین کی علامت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہادِ تبیین صرف مخالف نقطۂ نظر کا جواب دینے کا نام نہیں، بلکہ صحیح فکر کی وضاحت، دینی معارف کی تشریح، عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالات کا جواب اور حقائق کو ان کے درست تناظر میں پیش کرنا بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ اس میدان میں کامیابی کے لیے علم، بصیرت، استدلال، زبان پر قدرت اور ذرائع ابلاغ کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔

بین الاقوامی میڈیا میں عملی تجربات کا تذکرہ

اپنے خطاب کے دوران حجت‌الاسلام سید آصف رضوی نے بین الاقوامی اور بالخصوص ہندوستانی ذرائع ابلاغ میں اپنی شرکت کے تجربات بھی بیان کیے۔ انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ اور ایران پر امریکہ و اسرائیل کے حملوں کے تناظر میں میڈیا پر ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ایسے حساس حالات میں عوام تک درست معلومات پہنچانا اور مختلف بیانیوں کا علمی و مدلل جواب دینا کس قدر اہم ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات اسلام، مکتبِ اہلِ بیتؑ، تشیع اور ایران کے حوالے سے ایسے بیانیے سامنے آتے ہیں جن میں واقعات کی یک طرفہ تشریح یا غیر مصدقہ دعووں کے ذریعے رائے عامہ کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ اہلِ علم اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور جہاں ان کی علمی رہنمائی درکار ہو، وہاں حاضر ہو کر حقائق کو واضح کریں۔

انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں بتایا کہ وہ مختلف ہندوستانی ٹیلی ویژن چینلز کے مباحثوں میں شریک ہوئے، جہاں مختلف ممالک اور مختلف نقطۂ ہائے نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے درمیان گفتگو ہوتی تھی۔ ان مواقع پر ان کی کوشش رہی کہ ایران سے متعلق حالات، جنگ کے پس منظر اور خطے کی صورتِ حال کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر پیش کریں، غلط فہمیوں کی وضاحت کریں اور اسلام و مکتبِ اہلِ بیتؑ سے متعلق سوالات کا مدلل جواب دیں۔

ان کے مطابق، ان تجربات نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کیا کہ آج تبلیغِ دین کے میدان میں صرف روایتی طریقوں پر اکتفا نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ علما و مبلغین جدید ابلاغی میدانوں کی زبان اور تقاضوں کو سمجھیں، اہم مواقع پر اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور علمی و اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ عوام کی رہنمائی کریں۔

علم، امانت اور ذمہ داری کا تقاضا

خطاب کے اختتام پر اس بنیادی نکتے کو نمایاں کیا گیا کہ عالم و مبلغ کی کامیابی کا معیار محض تقریر کی تاثیر یا معلومات کی کثرت نہیں، بلکہ پیغام کی صحت، بیان کی دیانت، حالات کی درست تفہیم اور معاشرے کی حقیقی ضروریات سے اس کی وابستگی ہے۔ ایک ذمہ دار عالم وہ ہے جو اپنے علم کو معاشرے کی فکری و اخلاقی اصلاح کے لیے بروئے کار لائے، عوام کے سوالات سے واقف ہو، ضرورت کے وقت میدانِ عمل میں موجود رہے اور جدید وسائل کو مثبت مقاصد کے لیے استعمال کرے۔

عصرِ حاضر میں علما و مبلغین کے سامنے ایک وسیع میدان موجود ہے۔ ایک طرف دینی معارف کی ترویج، نوجوان نسل کی فکری تربیت اور معاشرتی مسائل کی تفہیم کی ضرورت ہے، تو دوسری طرف ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی میڈیا کے ذریعے پھیلنے والی معلومات کا تنقیدی جائزہ لینے اور درست حقائق پیش کرنے کی ذمہ داری بھی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں علم، بصیرت، زبان شناسی، حالات شناسی اور جہادِ تبیین ایک دوسرے سے مربوط ہو جاتے ہیں۔ اگر علما و مبلغین ان تقاضوں کو سمجھتے ہوئے میدانِ عمل میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو وہ نہ صرف دینی پیغام کو زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچا سکتے ہیں، بلکہ معاشرے میں فکری بیداری، علمی اعتماد اور ذمہ دارانہ مکالمے کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha